نبی ﷺ نے نیت کے بارے میں کیا فرمایا؟
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ یہ صحیح بخاری کی پہلی حدیث ہے، جسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر روایت کیا۔
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ «صحيح البخاري» (١/ ٦) — البخاري (ت ٢٥٦هـ) · ط السلطانية · بدء الوحي
صحیح بخاری · سلطانیہ طبع · جلد 1، صفحہ 6 · بدء الوحی
معلوماتی ہے، فتویٰ نہیں — اپنی ذاتی صورتِ حال کے حکم کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔





