مواد پر جائیں
قرآن کے متن پر جائیں

سورہ 83 از 114مکّی

Al-Mutaffifin

المطففين The Defrauding

آیات
36
نزول
مکّی
پارہ
30
صفحات
587–589

نام :

پہلی ہی آیت

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ

سے ماخوذ ہے۔

زمانۂ نزول :

اس کے اندازِبیان اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہورہی تھیں، اور اس کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہے جب اہل مکہ نے سڑکوں پر، بازاروں میں  اور مجلسو ں میں مسلمانوں پر آوازے کسنے اور ان کی توہین ذنذیل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، مگر ظلم و ستم اور مار پیٹ کا دورا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔۔ بعض مفسرین نے اس سورہ کو مدنی قرار دیا ہے۔اِس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور تولنے کا مرض بُری طرح پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ

نازل کی اور لو گ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے (نسائی، ابن ماجہ، ابن مردویہ، ابن جریر، بیقہی فی شُعَب الایمان)۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے ہم سورہ دَہر کے دیباچے میں بیان کر چکے ہیں، صحابہ اور تابعین کا یہ عام طریقہ تھا کہ ایک آیت جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہو اس کے متعلق وہ یوں کہا کرتے تھے کہ یہ فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے ابن عباس کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں میں یہ بُری عادت پھیلی ہوئی پائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے یہ سورت ان کو سنائی اور اِس سے اُن کے معاملات درست ہوگئے۔

موضوع اور مضمون:

اس کاموضوع بھی آخرت ہے۔

پہلی چھ آیتوں میں اُس عام بے ایمانی پر گرفت کی گئی ہے جو کاروباری لوگوں میں بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کر لیتے تھے، مگر جب دوسروں کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ  گھاٹا دیتے تھے۔ معاشرے کی  بے شمار خرابیوں میں سے اِس ایک خرابی  کو، جس کی قباحت سے کوئی انکار نہ کر سکتا تھا، بطورِ مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے اُس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کامل راستبازی اختیار کر سکیں۔ کوئی شخص دیانت داری کو”اچھی پالیسی“سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں دیانت برت بھی لے تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں برت سکتا جہاں بے ایمانی ایک”مفید پالیسی“ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچّی اور مستقل دیانت داری اگر پیدا ہو سکتی ہے تو صرف خدا کے خوف اور آخرت پر یقین ہی سے ہو سکتی ہے، کیونکہ اِس صورت میں دیانت ایک ”پالیسی“نہیں بلکہ”فریضہ“قرار پاتی ہے اور آدمی کے اُس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں اس کے مفید یا غیر مفید ہونے پر نہیں رہتا ۔

اس طر ح اخلاق کے ساتھ عقیدہ آخرت کا تعلق نہایت مؤثر اور دل نشین طریقہ سے واضح کرنے کے بعد آیت ۷ سے ۱۷ تک بتایا گیا ہے کہ بد کار لوگوں کے نامہ اعمال پہلے ہی جرائم پیشہ لوگوں کے رجسٹر(

Black list

) میں درج ہورہے ہیں اور آخرت میں ان کو سخت تباہی سے  دو چار ہونا ہے۔پھرآیت ۱۸ سے۲۸ تک نیک لوگوں کا بہترین انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے بلند پایہ لوگوں کے رجسٹر میں درج ہورہے ہیں جس پر مقرب فرشتے مامور ہیں۔

          آخر میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کفار کو خبر دار بھی کیا گیا ہے کہ آج جو لوگ ایمان لانے والوں کی تذلیل کر رہے ہیں، قیامت کے روز یہی مجرم لوگ اپنی اِس روش کا بہت بُرا انجام دیکھیں گے اور یہی ایمان لانے والے ان مجرموں کا بُرا انجام دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔

تدبرات پرتیں

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

وَيۡلٞ
لِّلۡمُطَفِّفِينَ
١
Woe to those who give short measure,

M.A.S. Abdel Haleem

ٱلَّذِينَ
إِذَا
ٱكۡتَالُواْ
عَلَى
ٱلنَّاسِ
يَسۡتَوۡفُونَ
٢
who demand of other people full measure for themselves,

M.A.S. Abdel Haleem

وَإِذَا
كَالُوهُمۡ
أَو
وَّزَنُوهُمۡ
يُخۡسِرُونَ
٣
but give less than they should when it is they who weigh or measure for others!

M.A.S. Abdel Haleem

أَلَا
يَظُنُّ
أُوْلَٰٓئِكَ
أَنَّهُم
مَّبۡعُوثُونَ
٤
Do these people not realize that they will be raised up

M.A.S. Abdel Haleem

لِيَوۡمٍ
عَظِيمٖ
٥
on a mighty Day,

M.A.S. Abdel Haleem

يَوۡمَ
يَقُومُ
ٱلنَّاسُ
لِرَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٦
a Day when everyone will stand before the Lord of the Worlds?

M.A.S. Abdel Haleem

كـَلَّآ
إِنَّ
كِتَٰبَ
ٱلۡفُجَّارِ
لَفِي
سِجِّينٖ
٧
No indeed! The list of the wicked is in Sijjin––

M.A.S. Abdel Haleem

وَمَآ
أَدۡرَىٰكَ
مَا
سِجِّينٞ
٨
what will explain to you what Sijjin is?––

M.A.S. Abdel Haleem

كِتَٰبٞ
مَّرۡقُومٞ
٩
a clearly numbered list.

M.A.S. Abdel Haleem

وَيۡلٞ
يَوۡمَئِذٖ
لِّلۡمُكَذِّبِينَ
١٠
Woe on that day to the deniers,

M.A.S. Abdel Haleem

ٱلَّذِينَ
يُكَذِّبُونَ
بِيَوۡمِ
ٱلدِّينِ
١١
those who deny the Day of Judgement!

M.A.S. Abdel Haleem

وَمَا
يُكَذِّبُ
بِهِۦٓ
إِلَّا
كُلُّ
مُعۡتَدٍ
أَثِيمٍ
١٢
Only the evil aggressor denies it:

M.A.S. Abdel Haleem

إِذَا
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡهِ
ءَايَٰتُنَا
قَالَ
أَسَٰطِيرُ
ٱلۡأَوَّلِينَ
١٣
when Our revelations are recited to him, he says, ‘Ancient fables!’

M.A.S. Abdel Haleem

كـَلَّاۖ
بَلۡۜ
رَانَ
عَلَىٰ
قُلُوبِهِم
مَّا
كَانُواْ
يَكۡسِبُونَ
١٤
No indeed! Their hearts are encrusted with what they have done.

M.A.S. Abdel Haleem

كـَلَّآ
إِنَّهُمۡ
عَن
رَّبِّهِمۡ
يَوۡمَئِذٖ
لَّمَحۡجُوبُونَ
١٥
No indeed! On that Day they will be screened off from their Lord,

M.A.S. Abdel Haleem

ثُمَّ
إِنَّهُمۡ
لَصَالُواْ
ٱلۡجَحِيمِ
١٦
they will burn in Hell,

M.A.S. Abdel Haleem

ثُمَّ
يُقَالُ
هَٰذَا
ٱلَّذِي
كُنتُم
بِهِۦ
تُكَذِّبُونَ
١٧
and they will be told, ‘This is what you called a lie.’

M.A.S. Abdel Haleem

كـَلَّآ
إِنَّ
كِتَٰبَ
ٱلۡأَبۡرَارِ
لَفِي
عِلِّيِّينَ
١٨
No indeed! The list of the truly good is in 'Illiyyin––

M.A.S. Abdel Haleem

وَمَآ
أَدۡرَىٰكَ
مَا
عِلِّيُّونَ
١٩
what will explain to you what 'Illiyyin is?––

M.A.S. Abdel Haleem

كِتَٰبٞ
مَّرۡقُومٞ
٢٠
a clearly written list,

M.A.S. Abdel Haleem

يَشۡهَدُهُ
ٱلۡمُقَرَّبُونَ
٢١
witnessed by those brought near.

M.A.S. Abdel Haleem

إِنَّ
ٱلۡأَبۡرَارَ
لَفِي
نَعِيمٍ
٢٢
The truly good will live in bliss,

M.A.S. Abdel Haleem

عَلَى
ٱلۡأَرَآئِكِ
يَنظُرُونَ
٢٣
seated on couches, gazing around.

M.A.S. Abdel Haleem

تَعۡرِفُ
فِي
وُجُوهِهِمۡ
نَضۡرَةَ
ٱلنَّعِيمِ
٢٤
You will recognize on their faces the radiance of bliss.

M.A.S. Abdel Haleem

يُسۡقَوۡنَ
مِن
رَّحِيقٖ
مَّخۡتُومٍ
٢٥
They will be served a sealed nectar,

M.A.S. Abdel Haleem

خِتَٰمُهُۥ
مِسۡكٞۚ
وَفِي
ذَٰلِكَ
فَلۡيَتَنَافَسِ
ٱلۡمُتَنَٰفِسُونَ
٢٦
its seal [perfumed with] a fragrant herb––let those who strive, strive for this––

M.A.S. Abdel Haleem

وَمِزَاجُهُۥ
مِن
تَسۡنِيمٍ
٢٧
mixed with the water of Tasnim,

M.A.S. Abdel Haleem

عَيۡنٗا
يَشۡرَبُ
بِهَا
ٱلۡمُقَرَّبُونَ
٢٨
a spring from which those brought near will drink.

M.A.S. Abdel Haleem

إِنَّ
ٱلَّذِينَ
أَجۡرَمُواْ
كَانُواْ
مِنَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
يَضۡحَكُونَ
٢٩
The wicked used to laugh at the believers––

M.A.S. Abdel Haleem

وَإِذَا
مَرُّواْ
بِهِمۡ
يَتَغَامَزُونَ
٣٠
they would wink at one another when the believers passed by them,

M.A.S. Abdel Haleem

وَإِذَا
ٱنقَلَبُوٓاْ
إِلَىٰٓ
أَهۡلِهِمُ
ٱنقَلَبُواْ
فَكِهِينَ
٣١
joke about them when they got back to their own people,

M.A.S. Abdel Haleem

وَإِذَا
رَأَوۡهُمۡ
قَالُوٓاْ
إِنَّ
هَٰٓؤُلَآءِ
لَضَآلُّونَ
٣٢
and say, when they saw them, ‘These people are misguided,’

M.A.S. Abdel Haleem

وَمَآ
أُرۡسِلُواْ
عَلَيۡهِمۡ
حَٰفِظِينَ
٣٣
though they were not sent to be their keepers-

M.A.S. Abdel Haleem

فَٱلۡيَوۡمَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
مِنَ
ٱلۡكُفَّارِ
يَضۡحَكُونَ
٣٤
so today the believers are laughing at the disbelievers

M.A.S. Abdel Haleem

عَلَى
ٱلۡأَرَآئِكِ
يَنظُرُونَ
٣٥
as they sit on couches, gazing around.

M.A.S. Abdel Haleem

هَلۡ
ثُوِّبَ
ٱلۡكُفَّارُ
مَا
كَانُواْ
يَفۡعَلُونَ
٣٦
Have the disbelievers [not] been repaid for their deeds?

M.A.S. Abdel Haleem

آپ نے سورۃ Al-Mutaffifin مکمل کر لی

پورے قرآن میں سے اس ڈیوائس پر پڑھا گیا 0%