قرآن گیلری مجموعہ
Strengthening Iman Through Dua
5 مضامین مطالعے کی ترتیب میں۔ پہلے حصے سے شروع کریں۔
5 مضامینترتیب سے پڑھیں
Strengthening Iman Through Dua مانگنے کی مٹھاس: دعا اور ایمان کا ذائقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ایک بچے کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ہر ضرورت کے لیے صرف ایک ہی در پر دستک دے؛ ایک حدیث کے مطابق یہ دستک ہی دراصل پوری عبادت ہے؛ ابن قیم فرماتے ہیں کہ اس کا حاصل کوئی عقلی نتیجہ نہیں بلکہ ایک محسوس کیا جانے والا ذائقہ ہے۔ آخر مانگنا ہی وہ عمل کیوں ہے جو محض عقیدے کی حد تک موجود محتاجی کو ایک زندہ احساس میں بدل دیتا ہے؟ Strengthening Iman Through Dua القریب: وہ نام جو بتاتا ہے کہ اللہ کہاں ہے سورۃ البقرہ میں سات مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے گئے سوالات کا جواب ایک ہی ہدایت کے ساتھ دیا گیا ہے: 'کہہ دیجیے'۔ لیکن روزے کی آیات کے درمیان ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں یہ لفظ غائب ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قربت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا براہِ راست جواب دیتا ہے۔ اس غائب لفظ کا کیا مطلب ہے اور کیا نہیں، یہی اس تحریر کا موضوع ہے۔ Strengthening Iman Through Dua المجیب: وہ نام جو قبولیت کی ضمانت دیتا ہے المجیب — یعنی جواب دینے والا — محض سنے جانے سے کہیں بڑا وعدہ ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ اس وعدے کے تحت ملنے والا جواب کیسا ہو سکتا ہے، اور ان تینوں صورتوں میں سے کوئی بھی اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ مانگی گئی چیز بعینہٖ اسی طرح مل جائے گی۔ یہ نام کس چیز کی ضمانت دیتا ہے اور کیا کچھ پوشیدہ رکھتا ہے، اس حوالے سے حقیقت پسند ہونا ضروری ہے۔ Strengthening Iman Through Dua انبیاء نے کیسے مانگا: ان کی دعائیں ہمیں مانگنے کے بارے میں کیا سکھاتی ہیں قرآن مجید میں حضرت ایوب، یونس، زکریا، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کی دعائیں من و عن محفوظ ہیں، اور ان پانچوں میں سے کسی نے بھی اللہ کو یہ نہیں بتایا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اگر ان دعاؤں کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو ان میں الفاظ سے زیادہ ایک خاص انداز مشترک نظر آتا ہے: اپنی حالت بیان کرنا، اللہ کی صفات کا واسطہ دینا، اور بس وہیں رک جانا۔ Strengthening Iman Through Dua جب دعا کا جواب نہ ملے: تاخیر میں چھپی حکمت ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لمحے کی نشاندہی کرتے سنا جب ایک مخلصانہ دعا خطرے میں پڑ جاتی ہے — اور یہ انتظار کی طوالت نہیں ہے۔ تاخیر کے بارے میں دو احادیث اصل میں کیا کہتی ہیں، وہ کیا وعدہ نہیں کرتیں، اور 'میری دعا قبول کیوں نہیں ہوئی' کا سچا جواب کوئی طے شدہ کلیہ کیوں نہیں ہے۔
